پرتاب[1]
معنی
١ - وہ فاصلہ جو اتنی دوری پر ہو جہاں ایک اوسط تیر انداز کا تیر جا کر پڑے (بیشتر تیر کے ساتھ مستعمل)، (مجازاً) نشانہ۔ "محمدۖ . قریب ہوا اور جھک آیا، یہاں تک کہ دور تیر پرتاب کے برابر یا اس سے بھی قریب تر ہو گیا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٨٠:٣ )
اشتقاق
فارسی سے اصل صورت اور مفہوم کے ساتھ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٤ء کو "دیوانِ اسیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ فاصلہ جو اتنی دوری پر ہو جہاں ایک اوسط تیر انداز کا تیر جا کر پڑے (بیشتر تیر کے ساتھ مستعمل)، (مجازاً) نشانہ۔ "محمدۖ . قریب ہوا اور جھک آیا، یہاں تک کہ دور تیر پرتاب کے برابر یا اس سے بھی قریب تر ہو گیا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٨٠:٣ )